دین اور ملک دوجڑواں بھائی ہیں
تحریر:محمد فیاض مصطفائی
دین اور ملک دوجڑواں بھائی ہیں, ہر ایک کا دارومداردوسرے پر ہے کیونکہ دین ملک کی بنیاد ہے اور ملک دین کا محافظ ہے, ملک کے لئے بنیاد ضروری ہے اور دین کے لئے محافظ, جس کا محافظ نہ ہو وہ ضائع ہوجاتا ہے اور جس کی بنیاد نہ ہو وہ گر جاتا ہے
(ارشاد العباد صفحہ77,دانش حجاز صفحہ 38)
ملکوں کی تعمیر سنگ وخشت سے نہیں بلکہ دین ونظریہ کی بنیاد پر ہوتی ہے, مضبوط اور مبنی بر حقیقت نظریات اور عوام کی ان کے ساتھ اٹل وابستگی ملک کے استحکام اور ترقی کا باعث بنتے ہیں, نظریات کمزور ہوں یا عوام کی ان کے ساتھ وابستگی کمزور ہوتو ملک وقوم زوال کا شکار ہوجاتے ہیں. ملک پاکستان کے قیام کے وقت ہمارے بزرگوں نے جو خواب دیکھے تھے وہ پورے ہوتے نظر نہیں آرہے, اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم اپنے بنیادی نظریہ (دوقومی نظریہ) سے دور ہو گئے ہیں, تحریک پاکستان کے وقت جو نعرے ہماری پہچان تھے انہیں ہم بھول چکے ہیں, ہماری نوجوان نسل دو قومی نظریہ سے بالکل نابلد ہے اور ہمارا قومی ماحول دوقومی نظریہ کی نشوونما کے لئے ناساز بنتا جا رہا ہے.
دین ونظریہ ملک کی بنیاد ہے تو ملک اس کامحافظ ہے, سیاسی طاقت کے بغیر دین کی ترویج واشاعت, عملی نفاذ اور تحفظ ناممکن ہے. مکہ شریف میں اسلام کی نشرواشاعت میں سب سے بڑی رکاوٹ قریش مکہ کا سیاسی اثرورسوخ تھا, مدینہ شریف میں مسلمان سیاسی لحاظ سے مضبوط ہوگئے تھے لہذا اسلام کا نور ہر سو پھیلنےلگا.
ماشاءاللہ
ReplyDeleteماشاءاللہ
ReplyDelete