ہو کیا رہا ہے اور ہونا کیا چاہئے
ہو کیا رہا ہے اور ہونا کیا چاہئے
14 اگست پاکستان کا یوم آزادی ہے اور اس سال (2022ء میں 75 ویں یوم آزادی کو ڈائمنڈ جوبلی کے طور پر منایا جارہا ہے ، اس سلسلے میں خصوصی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے اور اہل پاکستان جوش و خروش سے یوم آزادی منائیں گے ۔
یوم آزادی کو اگر بامقصد طریقے سے منایا جاۓ تو بلاشبہ یہ رسمی تہوار نہیں، بلکہ قوم کو ایک لڑی میں پرونے اور ان کے سوۓ ہوۓ جذبات کو بیدار کرنے کا حسین موقع ہے ، لیکن افسوس! اس عظیم دن کو دانستہ یا نادانستہ رسمی کاموں میں ضائع کر دیا جاتا ہے۔ تقریبا99 فی صد لوگوں کا یوم آزادی یوں گزرتا ہے کہ چند نغمے سن لیے جاتے ہیں ، سیاسی و غیر سیاسی راہ نماوطن سے زبانی محبت پر مبنی تقریر میں کر دیتے ہیں اور کچھ تقریبات کا انعقاد کر لیا جاتا ہے ، ساتھ ساتھ سیر و تفریح اور ہلا گلا ہو جاتا ہے۔
ہونا یہ چاہیے کہ یوم آزادی کے موقع پر :
نئی نسل کو آگاہ کیا جائے کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اور اگر ہم آزاد نہ ہوتے تو ہماری صورت حال کیا ہوتی ؟
برصغیر کی تاریخ کیا ہے ؟ پاکستان بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ کیا ہم نے پاکستان بنانے کے مقاصد حاصل کر لیے ہیں ؟
اگر نہیں تو انھیں کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے ؟
تحریک پاکستان کی کامیابی کے لیے ہمارے سیاسی قائدین، علماء و مشائخ، عوام اور ماؤں بہنوں نے کتنی قربانیاں دیں؟ اور
کس قدر مشکلات کے بعد یہ پیارا وطن حاصل ہوا؟
قوم کی تربیت کی جاۓ کہ وہ کون سی کمزوریاں تھیں جن کی وجہ سے بر صغیر میں مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ حکومت کا خاتمہ ہوا؟
آج ہم انہی کمزوریوں میں کیوں مبتلا ہیں اور ان کا کیسے خاتمہ ہو سکتا ہے؟
انگریز نے ہماری تہذیب و ثقافت اور نظام تعلیم کو کس طرح تبدیل کر کے ہمیں فکری طور پر غلام بنایا اور آج ہمیں اپنی
اصل اقدار کی طرف لوٹنے کے لیے کیا کرنا چاہیے ؟
ایسے اور بھی کئی اہم پہلو ہیں جن کے حوالے سے یوم آزادی کے موقع پر قوم کی تربیت ہونی چاہیے ، مگر ظاہر ہے کہ یہ تب ہی ممکن ہے جب ہمارے حکمران اس وطن کو ”قائد کا پاکستان بنانا چاہیں ... اگر ارباب اقتدار کا مقصد صرف کرسی ہو تو انھیں قوم کی تربیت سے کیا غرض!
Comments
Post a Comment